
احمد نے اپنے خاندان کے لیے ایک گھر بنانے کا فیصلہ کیا۔ پلاٹ تیار تھا، بجٹ محدود تھا، اور امید یہ تھی کہ عمارت مضبوط، آرام دہ اور آنے والے برسوں میں اخراجات کم رکھنے والی ہو۔
سب سے پہلے احمد نے ایک روایتی ٹھیکیدار سے ملاقات کی۔ جواب سادہ تھا:
“فی مربع فٹ ریٹ بتا دیتا ہوں، باقی سب چلتے چلتے دیکھ لیں گے۔”
ڈیزائن پہلے سے تیار تھا، لوہے اور سیمنٹ کی مقدار زیادہ تھی، اور توانائی یا پانی کی بچت پر کوئی بات نہیں ہوئی۔ بس ایک جملہ بار بار دہرایا گیا:
“فکر نہ کریں، سب ٹھیک ہو جائے گا۔”
Green Shifts کچھ دن بعد احمد کی ملاقات
کی ٹیم سے ہوئی۔ بات چیت مختلف تھی۔
سب سے پہلے سوال یہ پوچھا گیا:
“آپ اس عمارت سے کیا چاہتے ہیں؟ کم بجلی کے بل؟ بہتر درجہ حرارت؟ کم پانی کا استعمال؟”
نے ڈیزائن کے غیر ضروری پہلووں کی نشاندہی کی اور انجینئرنگ کےGreen Shifts
بہتر اصولوں کو اپناتے ہوئے عمارت کو بہتر بنانے کی بات کی۔
غیر ضروری لوہا اور سیمنٹ کم کیا گیا، جس سے لاگت بھی کم ہوئی اور کاربن اخراج بھی۔
یہ بچت کسی اور مد میں ضائع نہیں ہوئی بلکہ احمد کی رضامندی سے توانائی مؤثر ڈیزائن، بہتر روشنی، اور پانی بچانے کے حل میں لگائی گئی۔
ہر فیصلے سے پہلے احمد کو بتایا گیا کہ اس کا اثر بجٹ، توانائی، اور مستقبل کے اخراجات پر کیا ہوگا۔
کوئی تبدیلی زبانی نہیں ہوئی، ہر چیز تحریری، واضح اور منظور شدہ تھی۔
جب عمارت مکمل ہوئی تو فرق واضح تھا۔
یہ صرف ایک بنی ہوئی عمارت نہیں تھی، بلکہ ایک سمجھداری سے ڈیزائن کی گئی عمارت تھی۔جس کے اخراجات کم، کارکردگی بہتر، اور مستقبل زیادہ محفوظ تھا۔
روایتی تعمیر میں صرف عمارت بنتی ہے۔
میں جدید سوچ کے ساتھ سسٹین ایبل عمارت بنتی ہے۔ Green Shifts
The story follows Ahmed as he plans to construct a building with a limited budget and long-term comfort in mind. His initial interaction with a conventional contractor focuses only on a fixed per-square-foot rate, with little attention to design efficiency, material use, or energy and water savings. Sustainability is not part of the discussion.
When Ahmed meets the Green Shifts team, the approach changes. Instead of starting with rates, the discussion begins with performance goals such as lower energy bills, better thermal comfort, and reduced water use. Green Shifts identifies unnecessary design elements and applies sound engineering principles to reduce excess use of steel and cement, lowering both costs and carbon emissions.
With the client’s consent, the savings are redirected toward energy-efficient design, improved lighting, and water-saving solutions. All decisions are explained clearly, documented, and approved in advance. By the end, the completed building is not just constructed but thoughtfully designed—offering better performance, lower operating costs, and a more sustainable future.
کلائنٹ:
میں گھر تو بنوانا چاہتا ہوں، مگر سچ بتاؤں تو یہ “سسٹین ایبل فیچرز” مجھے مہنگے لگتے ہیں۔ بجٹ پہلے ہی محدود ہے۔
Green Shifts:
یہ خدشہ بالکل فطری ہے۔ لیکن کیا ہم یہ دیکھ سکتے ہیں کہ کہاں غیر ضروری خرچ ہو رہا ہے، اور کہاں بہتر منصوبہ بندی سے بچت ممکن ہے؟
کلائنٹ:
یعنی آپ کہنا چاہتے ہیں کہ سسٹین ایبل ہونا لازماً مہنگا نہیں؟
Green Shifts:
بالکل۔ اکثر مہنگا وہ ہوتا ہے جو بغیر سوچے ڈیزائن کیا جائے، زیادہ سٹیل، زیادہ سیمنٹ، اور ایسی چیزیں جن کی ضرورت نہ ہویا جو ضرورت سے زیادہ ہوں۔ ہم پہلے ان چیزوں کو درست کرتے ہیں۔
کلائنٹ:
اور اس سے جو بچت ہوتی ہے؟
Green Shifts:
وہ آپ کی رضا مرضی سے بجلی کی بچت کے طریقہء کار، کم پانی کے استعمال، اور کم کاربن اخراج کا باعث بننے وا لے میٹریل کی خرید میں لگائی جاتی ہے۔ یعنی خرچ بڑھانے کے بجائے خرچ کو بہتر سمت میں استعمال کیا جاتا ہے۔
کلائنٹ (کچھ سوچتے ہوئے):
لیکن یہ سب کرنا کیا واقعی ضروری ہے؟
Green Shifts:
ضروری اس لیے ہے کیونکہ یہ عمارت صرف آج کے لیے نہیں، آنے والے برسوں کے لیے ہے۔ بجلی کے بل، پانی کی قلت، اور ماحول پر اثر۔۔۔یہ سب اسی عمارت سے جڑے رہیں گے۔
کلائنٹ:
تو آپ کہنا چاہتے ہیں کہ یہ صرف ایک آپشن نہیں، ایک ذمہ داری ہے؟
Green Shifts (مسکراتے ہوئے):
جی ہاں۔ یہ ذمہ داری ہم آپ پر نہیں ڈالتے۔۔۔ہم آپ کے ساتھ بانٹتے ہیں۔ فیصلہ آپ کا ہوتا ہے، مگر اثر ہم سب پر پڑتا ہے۔
کلائنٹ (پراعتماد انداز میں):
پھر ٹھیک ہے۔ اگر میں آج بہتر فیصلے کر سکتا ہوں، تو مجھے کرنے چاہئیں۔ میں چاہتا ہوں کہ میری عمارت آنے والی نسلوں کے لیے مسئلہ نہ بنے۔
Green Shifts:
یہی وہ نقطہ ہے جہاں ایک عام عمارت، ایک ذمہ دار عمارت بن جاتی ہے۔
پائیدار(سسٹین ایبل) تعمیر کوئی زبردستی نہیں،
بلکہ سمجھداری، ذمہ داری اور دور اندیشی کا انتخاب ہے۔
The dialogue presents a conversation between a client and Green Shifts about the perceived cost of sustainable building features. The client initially believes that sustainable features are expensive and difficult to afford within a limited budget. Green Shifts responds by explaining that sustainability does not necessarily increase costs; instead, unnecessary expenses often arise from poor or excessive design, such as overuse of steel, cement, and materials that are not actually required.
Green Shifts explains that by correcting these inefficiencies through thoughtful planning and engineering, cost savings can be achieved. With the client’s consent, these savings are then redirected toward energy-saving solutions, reduced water use, and lower-carbon materials, rather than increasing overall expenditure.
As the conversation continues, Green Shifts emphasizes that sustainable design is not only a choice for today but a responsibility toward the future. Energy bills, water availability, and environmental impact remain tied to a building throughout its life. The client comes to recognize that sustainability is a shared responsibility and decides to make better, more informed decisions so that the building does not become a burden for future generations.
The dialogue concludes by reinforcing that sustainable construction is not forced, but a thoughtful, responsible, and forward-looking choice.
جب کامران اپنی عمارت کے ابتدائی خاکے کے ساتھ ہمارے دفتر آیا تو اس کے ذہن میں ایک ہی سوال تھا:
“کیا واقعی میں ایسی عمارت بنا سکتا ہوں جو کم خرچ بھی ہو اور ماحول کے لیے بہتر بھی؟”
Green Shifts:
(Embodied carbon)آئیے اس سوال کو تین حصوں میں دیکھتے ہیں۔۔توانائی (بجلی)، پانی، اور ایمباڈیڈ کاربن ۔
کامران:
توانائی سے شروع کرتے ہیں۔
Green Shifts:
توانائی کی بچت صرف کم بجلی استعمال کرنے والی مشینوں سے ہی نہیں ہوتی۔ ہم عمارت کی سمت، کھڑکیوں کی جگہ، قدرتی روشنی، ہوا کے بہاؤ، اور انسولیشن پر کام کرتے ہیں۔
درست انسولیشن گرمی کے بہاو کو روکتی ہے اور درجہ حرارت کو برقرار رکھتی ہے، جس سے ایئر کنڈیشنر اور ہیٹر کی ضرورت کم ہو جاتی ہے۔
کامران نے سر ہلایا۔
کامران:
پانی کے بارے میں کیا طریقہ ہے؟
Green Shifts:
پانی کی بچت ڈیزائن سے شروع ہوتی ہے۔ کم پانی استعمال کرنے والے فٹنگز،پانی کا مناسب پریشر اور غیر ضروری تیز پریشر سے گریز، بہتر پلمبنگ لے آؤٹ، اور بعض صورتوں میں بارش کے پانی کا دوبارہ استعمال۔۔۔یہ سب پانی کے ضیاع کو کم کرتے ہیں، آپ کے سکون اور آرام متاثر کیے بغیر ۔
کامران:
اور ایمباڈیڈ کاربن ؟ یہ ذرا مشکل لگتا ہے۔
Green Shifts:
سادہ لفظوں میں، ایمباڈیڈ کاربن وہ کاربن ہے جو عمارت بننے سے پہلے ہی اُس عمارت میں استعمال ہونے والے
میٹریل کی تیاری کے دوران خارج ہو جاتی ہے۔۔۔خاص طور پر سیمنٹ، سٹیل اور ٹائلز جیسے میٹریل کی تیاری میں۔ ہم کئی طریقوں سے ماحول میں اس کاربن کے اخراج کو کم کر سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر، ہم سیمنٹ میں سلیگ شامل کر سکتے ہیں، جس سے کنکریٹ میں خالص سیمنٹ کی مقدار کم ہوتی ہے اور ہماری عمارت کے آکاونٹ میں کاربن ا خراج کا اندراج بھی کم ہو جاتا ہے۔
اسی طرح، فلور ٹائلز کی کچھ خاص اقسام کی تیاری میں توانائی بھی کم استعمال ہوتی ہے اور کاربن بھی کم خارج ہوتی ہے اور وہ کم خرچ بھی ہیں۔ ۔۔۔ہم ایسی اقسام تجویز کرتے ہیں جہاں ممکن ہو۔
کامران نے دلچسپی سے پوچھا:
کامران:
کیا یہی سب کچھ ہے؟
Green Shifts (مسکراتے ہوئے):
نہیں۔ یہ صرف آغاز ہے۔ یہ چند مثالیں ہیں۔ ہر عمارت مختلف ہوتی ہے، ہر کلائنٹ کی ترجیحات بھی مختلف ہوتی ہیں۔
مزید کئی طریقے ہیں۔۔۔لیکن وہ سب ڈیزائن کی حتمی منظوری کے وقت آپ کے ساتھ بیٹھ کر طے کیے جاتے ہیں۔
مثلا صرف توانائی کی بچت کے لئے34 مختلف طریقے ہیں۔ آپ کے منتحب کردہ طریقون کے درست ملاپ
سے ہم ایک حتمی نتیجے پر پہنچتے ہیں۔ (combination)
کامران:
یعنی پہلے سمجھنا، پھر فیصلہ کرنا؟
Green Shifts:
بالکل۔ ہمارا کام آپ کو آپشنز، اعداد و شمار، اور اثرات بتانا ہے۔
فیصلہ ہمیشہ آپ کا ہوتا ہے۔
پائیدار عمارت کسی ایک میٹریل یا ایک حل کا نام نہیں
یہ سمجھدار انتخاب، بہتر ڈیزائن، اور مشترکہ ذمہ داری کا نتیجہ ہے۔
The dialogue explains how Green Shifts helps clients reduce energy use, water consumption, and embodied carbon through thoughtful design and informed material choices. Energy savings are achieved by optimizing building orientation, natural light, ventilation, and insulation to reduce reliance on mechanical cooling and heating. Water savings come from efficient plumbing layouts, low-flow fixtures, and, where suitable, reuse of rainwater.
The concept of embodied carbon is introduced through practical examples, such as reducing the use of pure cement by blending slag to lower carbon intensity, and selecting construction materials like floor tiles that are manufactured using more climate-friendly processes. These measures reduce environmental impact without compromising safety or comfort.
The dialogue also makes it clear that these examples are not exhaustive. Each building is different, and additional sustainability measures are identified and finalized collaboratively during the design development stage. Clients are fully informed, presented with options, and remain in control of how far sustainability features are applied.

We use cookies to analyze website traffic and optimize your website experience. By accepting our use of cookies, your data will be aggregated with all other user data.